محکمہ وائڈ لائف کا طوطوں کے شناختی کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ
طوطوں کی رجسٹریشن نہ کروانے والے مالکان کو 25 ہزار تک جرمانے کیے جائیں گے، طوطے بھی ضبط کر لیے جائیں گے۔
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 نومبر2023ء) محکمہ وائڈ لائف نے طوطوں کے شناختی کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ طوطوں کی رجسٹریشن نہ کروانے والے مالکان کو 25 ہزار تک جرمانے اور طوطے ضبط کر لیے جائیں گے۔اے ار وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پرندوں اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے محکمہ وائڈ لائف میں منفرد اقدام کرتے ہوئے طوطوں کے شناختی کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس فیصلے کے تحت پالتو طوطوں اور ان کے مالکان کو خصوصی شناختی کارڈ نمبرز جاری کیے جائیں گے اور طوطے پالنے کی شوقین افراد اور رجسٹر بریڈرز پر جنگلی طوطوں کو پکڑنے اور طوطوں کے چوزے فروخت کرنے پر پابندی ہوگی۔رواں سال کے آخر تک رجسٹریشن فری ہوگی تاہم یکم جنوری سے 29 فروری تک رجسٹریشن فیس پانچ ہزار روپے ہوگی۔
ترجمان کے مطابق بالغ پرندوں کے لیے رجسٹریشن 28 فروری کو بند ہو جائے گی۔
طوطوں کی رجسٹریشن نہ کرانے والے مالکان کو 25 ہزار تک جرمانے کی سزا دی جائے گی اور طوطے ضبط کر لیے جائیں گے۔تکلیف محکمہ وائلڈ لائف نے جنگلوں میں طوطوں کی تعداد کم ہونے کے باعث رجسٹریشن کا فیصلہ کیا۔جب کہ اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ (آئی ڈبلیو ایم بی) نے طوطوں کی تمام اقسام کے لیے رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان میں طوطوں کے تحفظ اور ذمہ دارانہ انتظام کو یقینی بنانا ہے۔منگل کو اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق طوطے کی تمام انواع جو پاکستان میں مقامی ہیں یا نقل مکانی کرنے والی ہیں رجسٹرڈ ہونی چاہئیں اور اس مقصد کے لئے آئی ڈبلیو ایم بی کی طرف سے کھلی انگوٹھیاں فراہم کی جائیں گی، ان انگوٹھیوں میں ایک بریڈر/مالک کا رجسٹریشن نمبر، طوطے کا شناختی نمبر اور پیدائش کا سال ہوگا۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home