Tuesday, December 12, 2023

سپریم کورٹ : ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس کی براہ راست سماعت‘عدالتی حکم میں توبہ کا تذکرہ کیوں کیا گیا؟چیف جسٹس

 

ریفرنس پرگیارہ سالوں میں پانچ سماعتیں‘پہلی سماعت 2 جنوری 2012 کو جبکہ آخری سماعت 12 نومبر 2012 کو ہوئی تھی-


اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 دسمبر۔2023 ) ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں 11 سال بعد سماعت جاری ہے جسے براہ راست نشر کیا جا رہا ہے سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا ہے کیا کوئی بتائے گا کہ عدالتی حکم میں توبہ کا تذکرہ کیوں کیا گیا. چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 9 رکنی لارجر بینچ سابق وزیراعظم سے متعلق ریفرنس کی سماعت کر رہا ہے لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں.

سماعت کے موقع پر سابق صدر آصف زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما کمرہ عدالت میں موجود ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے سماعت کی براہ راست کارروائی کی درخواست منظور کی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو پھانسی کیس آخری بار 2012 میں سنا گیا. گزشتہ روز پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کی براہ راست نشریات کیلئے درخواست دائر کی تھی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ ہونے کے ناطے انصاف کیلئے درخواست کی، ذوالفقار بھٹو نے ہمیشہ قانون کی بالادستی کیلئے کردار ادا کیا، ان کا قتل نظام انصاف پر دھبہ ہے یاد رہے کہ 2011 میں اس وقت کے صدر آصف زرداری نے ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے متعلق ریفرنس دائر کیا تھا اور اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے دسمبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں بھی کی تھیں لیکن ریفرنس سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا تھا.

بلاول بھٹو نے فریق بننے کے لیے اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کے توسط سے درخواست دی تھی قبل ازیں عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ صدارتی ریفرنس کی سماعت سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اور یو ٹیوب چینل پر براہ راست نشر کیا جائے گی. جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ براہ راست عدالتی کارروائی اس یوٹیوب چینل اور ویب سائٹ پر نشر کی جائے گی واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیر خارجہ و چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت براہ راست نشر کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی بلاول بھٹو کی جانب سے درخواست وکیل فاروق ایچ نائیک نے دائر کی، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ صدارتی ریفرنس میرے والد آصف علی زرداری کی جانب سے دائر کیا گیا.

بلاول بھٹو کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو ایک قتل کی سازش کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی، ذوالفقار بھٹو کو پھانسی دے دی گئی جو کہ ملکی تاریخ میں نظام، انصاف کا بدترین زوال تھا درخواست میں کہا گیا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی لیکن ان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے، انہوں نے تمام عمر قانون کی حکمرانی کی جدوجہد کی، ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینا پورے عدالتی نظام پر دھبہ ہے واضح رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس پر صدارتی ریفرنس گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں 11 سال بعد رواں ماہ سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا تھا سابق صدر آصف علی زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہو چکی ہیں.

صدارتی ریفرنس پر پہلی سماعت 2 جنوری 2012 کو جبکہ آخری سماعت 12 نومبر 2012 کو ہوئی تھی صدارتی ریفرنس پر پہلی 5 سماعتیں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی لارجر بینچ نے کیں جبکہ آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی.

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home